وہ اقدام جو عمران خان کو اگلے پانچ سال تک یاد رکھوا سکتے ہیں

0
23

عمران خان صاحب کی ایک لمبی کاوش آخر کار رنگ لے آئی اور وہ اپنی پہلی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے اگرچہ انکو ایک مظبوط اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑے گا. اس کے ساتھ ساتھ ایک کھوکھلی معاشیات کا بھی سامنا ہو گا .ایک طرف خان صاحب ملک کی جڑوں کو مظبوط کرنے کے خواں ہاں ہیں جو کہ نہ نظر آنے والی تبدیلی ہوتی ہے اور جس کو جہاں کرنا مشکل ہوتا ہے وہی اسکے نتائج بھی دیر سے دکھائی دیتے ہیں

 دوسری طرف خان صاحب کا وہ بیانیہ ہے جو عام آدمی اور بہت سارے نوجونوں نے سنا اور اسکو پھیلایا ہے جیسے تعلیم, روزگار, صحت اور ہسپتال وغیرہ پر کام وغیرہ. یہ سارے نظر آنے والے اقدامات ہیں. کوئی بھی اینکر کسی ہسپتال کا حال ایک لمحہ میں کھول کر رکھ سکتا ہے . خان صاحب کو جہاں عام آدمی کو رلیف دینا بھی ہو گا تاکہ اپنا بیانیہ جتوا سکیں وہیں اپنے اصل کام یعنی اداروں کی مظبوطی, کرپشن کی روک تھام , لوٹی دولت کی واپسی, سٹیل مل کی بحالی اور سب سے بڑھ کر ڈیم وغیرہ پرکام بھی کرنا ہو گا کیونکہ ان سے ہی ان کی دوراندیشی کا پتہ چلے گا.
اگر ہم خیبر پختنخواہ کا جائیزا لیں تو کہا جاتا ہے کہ وہاں ریفورمز کی گئیں لیکن بہت زیادہ نظر نہیں ائیں. ان سب باتوں کے پیش نظر زیل میں کچھ ایسے اقدامات ہیں جن کو کر کے خان صاحب عوام کے دل میں گڑھ کر سکتے ہیں

اگر عمران خان پرائم منسٹر ہاوس اور تمام وزرا کے سرکاری گھراور گورنر ہاوس وغیرہ کو ریسٹورنٹ یا 5 سٹار ہوٹلوں یا گیسٹ ہاوسز میں بدل دیں تو یہ وہ اقدام ہو گا جو اس سے پہلے کوئی نہ کر سکا اور لوگ اسکو مدت تک یاد رکھیں گیں
دوسرا اگر خان صاحب وعدے کے مطابق پروٹوکول نہ لیں اور سکیورٹی کو پروٹوکول کا درجہ نہ دیں تو اس سے نہ صرف وہ عوام کا دل جیت لیں گے بلکہ اپنے وزرا پر بھی ایک خاص اپریشن چھوڑ دیں گے
تیسرا وہ پانی , ڈیم , ٹیکس ,معشیت یا اداروں کے لیے جو بھی اقدامات کریں ان رفورمز پر لوگوں کو باور ضرور کرائیں باقاعدہ ٹی وی پروگرام , انٹرنیٹ وغیرہ کے زریعے تاکہ وہ بھی دکھائی دے
زراعت اور صنعت کے جو مسائل ہیں ان کا کوئی ٹھوس حل نکالیں. موجودہ حالات کے باوجود حل ہو سکتا ہے صنعت کار ٹیکس سے نجات لے کر اپنی بجلی خود بھی بنا سکتا ہے کچھ عرصہ کے لیے اسی طرح بہت سی انڈسٹری کو باہر رسائی حاصل ہو سکتی ہے وغیرہ لیکن انڈسٹری کے لوگوں کو سننا اور انکے مسائل کو موجودہ حالات میں حل کرنا ضروری ہے اور ہنگامی حالات میں ایسا کیا جا نا چاہیے. اسطرح وہ پنجا ب میں اپنا ووٹ بینک بڑھا سکتے ہیں
کراچی میں اگر بڑے ٹریکٹروں اور گاڑیوں کو الگ روٹ دیا جائے اور وہاں امن وامان کے ساتھ کچڑا ختم کیا جائے تو یہ اگلے الیکشن کے لیے مدد گار ہو سکتی ہے
گوادر میں پانی اور بلوچستان میں بلا رکاوٹ گیس کی ترسیل. وہاں نمل کی طرح کی کوئی اچھی یونیورسٹی کا قیام . اور ان لوگوں کے مسائل کو سننا اور ان کا واقعی حل نکالا جائے تو وہ وہاں کے لیڈروں کا دل جیت سکتے ہیں.

صوبوں کی مخرومی ختم کرنا اور وہاں کے عوامی لیڈروں کو ساتھ لے کر چل پانا وہ اقدام ہو گا جو خان صاحب کو اگلے الیکش میں ایک بہتر پوزیشن اور اپنے ویزن کے لیے بہتر موقع دے سکتی ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here