جرات مندانہ پراجیکٹ جو خان صاحب کو بڑا لیڈر ثابت کر سکتے ہیں

0
21

 لوٹی دولت کی واپسی

خان صاحب  کو جہاں ہرطرح کی حکمت عملی اپنانی چاہیے کہ وہ سوکس بینک اور باہر کی دولت کو واپس لائیں وہیں اپنی ہر کوشس کو عوام کے سامنے بھی لائیں تاکہ وہ ان  کی کوشسوں سے آگاہ رہیں اور ایسا قانون پاس کیا جائے جس کے تحت ارکان اسمبلی اور انکے بینیفشری اپنے اکاونٹ باہر کے ممالک نیں خاص کر سوس بینک اور اسی طرز کے دوسرے بینکوں میں اپنی رقم نہیں رکھ سکتے

ایران گیس پائپ لائن

 ایران گیس لائن پراجیکٹ پر دوبارہ سے ازسرنو کام شروع کر دیں تو پاکستان کو جہاں ایران کی طرف سے جرمانہ کے کیس سے نجات مل جائے گی وہیں یہ خطے میں تجارت اور تعلقات کا نیا باب کھولے گا

 سٹیل مل کی بحالی

اگر سٹیل مل کو گیس کی بلا لوڈ شیڈنگ کھلی فراہمی میسر آجائے تو صرف اس سے ہی وہ ملک کا بہت سارا زرمبادلہ بچایا جا سکتا ہے اور ایران گیس لائن سے بھی یہ فراہمی ہو سکتی ہے. 

 درآمدات میں کمی

جو اشیاء پاکستان میں بنتی ہیں ان کو درآمد نہ کیا جائے . اس وقت امپورٹڈ چیزوں کا استعمال بھی ایک سٹیٹس سمبل بن چکا ہے اس ملک میں کیک تک لوگ باہر سے منگوا رہے ہیں 

اخراجات میں کمی

بیرونی دوروں پر اخراجات اتنے ہی کیے جائیں جتنا ان دوروں سے فائدہ ہوتا ہو. ہمارے وزراعظم کے دورے بہت مہنگے ہوتے ہیں ان میں اعلی ہوٹلوں میں قیام اور طعام کا تو شیان شان اہتمام ہوتا ہے لیکن ان سے حاصل کچھ نہیں. اگر خان صاحب یہ مثال قائم کر دیں تو وہ تاریخ میں نام کما سکتے ہیں

 وزراء اور گورنر ہاوئسز کو گیسٹ ہاوس میں بدلنا

یہ وہ اقدام ہو گا جسے اگر خان صاحب کر دیں تو اگلے پانچ سال تک وہ خود کو لوگوں کے دلوں میں راج کرا دیں گے اور اسکے ساتھ پروٹوکول اور سکیورٹی میں فرق وضع کرنا

 بلوچستان اور خاص کر گوادر میں پانی و گیس کی فراہمی

بلوچستان کو ہمیشہ اس بات پر اعتراض ہوتا ہے کہ انکو اگنور کیا جاتا ہے اگر خان صاحب وہاں کے بڑے مسائل حل کر دیں اور نمل کی طرح ایک یونیورسٹی بھی بنا دیں تو وہ اس صوبے میں بھی اپنی پہچان بنا سکتے ہیں. ان کے قبائل سے ملاقات اور ان کے مسائل سے آگاہی بھی ان کی جرات کو ظاہر کرے گی

 صوبوں کی محرومی کا ازالہ اور ان کا وفاق پر اعتماد

یہاں خاص کر فاٹا, بلوچستان , اندرون سندھ وغیرہ کی بات ہو رہی ہے. بلوچستان میں جہاں امن وامان کا مسلہ ہے وہیں ان کے
وسائل کی انہیں بہتر ترسیل نہ ہونا بھی بہت بڑا مسلہ ہے جیسے سوئی گیس کی فراہمی اور پانی کی کمی وغیرہ.  ان محرومیوں کا ازالہ ملک کی صلامیت کے لیے بہت ضروری ہے . دوسری طرف بلاول ایک نوجوان ہے اور اندرون سندھ کا ایک نیا لیڈر بھی کیا کپتان صاحب اسکی سوچ میں غیر سیاسی رسوم کے ساتھ تبدیلی لا سکتے ہیں وہاں وڈیروں کا نشانہ بننے والے لوگوں کو پولیس کا تخفظ دے سکتے ہیں  . اسی طرح کیا قومیت پسند گروہ جو افغانستان, یا ایران میں بٹ گئے ہیں انکی اسی قومیت کی بنیاد پر ہمسایہ کے ساتھ ایسے تعلقات ہو سکتے ہیں جو نہ صرف دہشت گردوں سے نجات پانے میں مددگار ثابت ہوں بلکہ ان کو ہماری طاقت بنا دے

 ایران و افغانستان کا اعتماد

خان صاحب پہلے ہی بہت دفعہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ امریکہ کی جنگ میں ان کا ساتھ نہیں دینا چاہتے اور قبائل یا طالبان وغیرہ نے جو جہاد ڈیکلیر کیا ہے اس سے پاکستان کو بچائیں گے . کیا وہ افغانستان کا اعتماد حاصل کر سکیں گے اور ایران اور اس سے ایسا معادہ کر سکتے ہیں کہ کوئی اپنی زمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اوراس خطے کی سکیورٹی کو یقینی بنایا
جائے
اسی طرح جہادی تنظیموں کو اکٹھا کرکے ان کے لیے نیا جہاد بھی بنایا جا سکتا ہے جیسے ملک دشمن عناصر کی مخبری یا قبائل کے درمیان مفایمت اور اعتماد بحآل کرنا اور بظاہر انکو ڈس آرم قرار دینا وغیرہ- پاکستان کا بین الاقوامی امیج بحال کرنا بھی ایک چیلنج ہے اسکے لیے اپنے لوگوں کی گرفتاریوں کی بجاے ان کو اکٹھا کرنے اور ان کے متعلق ایک کنٹرولڈ طریقہ اپننانا ضروری ہو گا

 تمام مدرسوں کو رجیسٹر کرنا اور باقیوں کا خاتمہ

مولویوں کی تعنیات کا کوئی کرائٹیریا متعارف کرایا جائے. ان کے لیے کوئی سلیبس مقرر کیا جائے خاص کر پس ماندہ جگہوں پر اور اگر کسی جگہ پر اقلیت بستے ہیں تو اس علاقے میں ان کے ساتھ برتاو بھی پڑھایا جائے. عام آدمی کی سوچ میں جو تبدیلی مولوی اور علما لا سکتے ہیں وہ کوئی نہیں لا سکتا. اسی طرح جھوٹے پیروں وغیرہ کے خلاف بھی قانون سازی کی ضرورت ہے. احمدیوں کے لیےبھی قانون سازی کی ضرورت ہے . ٹھوس قانون سازی کے بغیر تشدد کو اور ختم رسول کے نام پر سیاست کو اور اسکی وجہ سے انتشار کو نہیں روکا جا سکتا -اگر انکی عبادت گاہوں کے باہر  لکھا جائے کہ یہ احمدی عبادت گاہ ہے مسجد نہیں . اور انٹرٹینمنٹ چینلز کو اقلیتوں کے متعلق ایک لائحہ عمل کے ساتھ ڈرامے وغیرہ بنانے کو کہیں جائیں تو کافی فرق پڑھ سکتا ہے – لہزا ایک بھرپور قانون سازی اور پلاننگ کی ضرورت ہے جو نہ صرف انتہا پسندی کو بدلے بلکہ لوگوں کے اعتماد کو پانے کے ساتھ
ساتھ پاکستان کا بیانیہ بھی بنا سکے

گلگت بلتستان کو پانچھواں صوبہ قرار دینا 

انڈیا چاہے جو بھی پروپیگنڈا کرے اور اگر اقوام متحدہ کی قرارداد بھی دیکھیں جائیں تو وہ لوگوں کو حق خودارادیت کا جو حق دیتی ہے اسکے تحت بھی گلگت کے لوگ پاکستان کے ساتھ ہی رہنا چاہتے ہیں. اب وقت آگیا ہے کہ مشکل فیصلے کیے جائیں اور گلگت کو پانچھواں صوبہ بھی بنایا جائے اور وہاں کے لوگوں کو اپنے لیڈر چننے کا موقع دے کر باقاعدہ الیکشن بھی کرایا جائے. ہماری سرزمیں سے لوگوں کی محرامی کو دور کرنے اور ان میں ایک وطن کو اہمیت دینے سے بڑھ کر کوئی کارنامہ نہ ہو گا

 بھارت کے ساتھ واضح حکمت عملی

بھارت کے ساتھ دو بڑے مسلے ہیں ان میں سے ایک مسلہ کشمیر اور دوسرا پانی کا ہے. تیسرا مسلہ بھارت کی سوچ ہے کہ پاکستان دہشت گردی کرواتا ہے. پانی کا مسلہ مزاکرات سے کم اور عمل سے زیادہ حل ہو سکتا تھا . پاکستان کو اتنے ڈیم بنا لینے چاہیے تھے کہ اس وقت بھارت چیخ رہا ہوتا ضرورت اس امر کی ہے کہ لوٹی دولت باہر سے لائی جائے اور بے تحاشہ ڈیم بنائیں جائیں اسکے ساتھ ایک نیا نظریہ اپنایا جائے اور پانی کے معاہدے میں نئے تقاظوں کے مطابق تبدیلیوں کی  ضرورت کو اجاگر کیا جاے
اسی طرح کشمیر پر نئ حکمت عملی کی جاے اسکو تقسیم ہند,کا ادھورا کام قرار دیا جاے اور دو قومی نظریہ کے ہی مطابق اسکی تقسیم کی جائے اس طرح کشمیر پاکستان جبکہ لداخ اور جموں انڈیا کو مل سکے گا- بھارت کو باور کرایا جائے کہ صرف یہ ہی اقدام خود ساختہ جاری جہاد سے بھارت کو بچاے گا
دوسری طرف کلبھوشن کو پھانسی دی جائے جسطرح قصاب کو دی گئی حافظ سعید کے خلاف واضع ثبوت مانگے جائیں اور ایک اگرینمنٹ کیا جائے جس,کے تحت انڈیا اور پاکستان دونوں ہی ایک دوسرے کی زمیں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here