مسلہ کشمیر اور اسکا حل آخر پاکستان اور بھارت کو ڈر کیا ہے

0
17

بھارت کی غلط فہمی ہے کہ پاکستان جہادی تنظیموں کو باقاعدہ کشمیر کے لیے تیار کرتا ہے – مجھے لگتا ہے کہ خان قوم نے اسے جہاد سمجھ کر خود فرض کر لیا ہے اور اسکی وجہ ہندووں سے انکا مسئلہ اور انڈیا کا کشمیر میں غلط پالیسی احتیار کرنا ہے – کشمیر کا پاکستان سے الحاق ہونے سے ہی اس جہاد کا خاتمہ ہو سکتا ہے

یا دوسری صورت میں جموں و کشمیر کو ایک ریاست تسلیم کیا جائے جہاں سے گزرنے والے پانی ، ڈیم کے اوپر کوئی معاہدہ ہو اور جس کی حفاظت دونوں ملکوں پر لازم اور امن کا معاہدہ بھی ہو کہ خطہ پر بیرونی قوتوں کا حملہ دونوں پر حملہ سمجھا جاے گا – لیکن ایسا اس لیے ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ کوئی بھی ایک دوسرے پر بھروسہ نہیں کر سکتا – بھارت کہتا کچھ، سناتا کچھ اور کرتا کچھ اور ہی ہے اسکی مثال انڈس پر انڈیا کا پروپیگنڈا ہے اور بھارت کی خواہش ہے کہ وہ اس خطہ میں سب سے آگے رہے اور پاکستان اسکی ایک ریاست بن کر رہے – لہزا ایسا ہونا مشکل ہے-

انڈیا کا سب سے بڑا ہنر امریکہ کی نقل کرنا ہے- ہندووں نے انگریزوں کی پیروی کو ہی اپنی نجات سمجھ لیا تھا اور آج تک ویسا ہی کرتے چلے آ رہے ہیں -مزے کی بات ہے کہ امریک نے کم ہی اپنے کسی ہمسایہ کے ساتھ کوئی مسئلہ کھڑا کیا ہے – وہ وسط ایشیا میں ہتھیاروں کو بیچنے کے لیے جنگیں کراتا ہے یا اپنی آف شور کمپنیوں کو بچانے اور روس یا چائینہ کو نیچا دکھانے کے لیے انڈیا کا استعمال کرنا چاہتا ہے – بھارت کو لگتا ہے کہ وہ جڑ کر پہلے سیکھے گا ،،منوائے گا اور پھر اپنی پہچان اور راج دانی کرے گا – یا ہو سکتا ہے اس کو بھی سپر پاور کے خواب آتے ہوں اور یہ ہی مسلہ پیدا کرتا ہے اس خطہ میں اور بے اعتباری بھی پیدا کرتا ہے

تو پھر مسلہ کشمیر کا حل ہے کیا  اسکا حل دو قومی نظریہ ہی ہے – اور بھارت ہی اسے اس نہج پر لایا ہے اگر وہ پنڈتوں پر کسی حملہ کو مخض جرم سمجھتا اور انکوائری کرا کر اسکو حل کرتا تو حالات مختلف ہو سکتے تھےلیکن انہوں نے اسے مختلف رنگ دے دیا ہے پاکستانی کشمیر میں ایسا مسلہ اس لیے نہیں کہ یہاں مسلمانوں کی ہی تعداد ہے تو اسکا مطلب یہ ہی ہے کہ کشمیر کو پاکستان اور جموں ولداخ کو بھارت اپنے پاس رکھ لیں اسکے ساتھ امن و امان کے معاہدے کر لیے جائیں – ہونا تو یہ بھی چاہیے کہ سیاحت کو اس جکہ فروغ دیا جائے اور بارڈر مخض ایڈ منسٹریشن کو ہی ظاہر کرے

لیکن کیا پاکستان اور انڈیا ایک دوسرے کے ساتھ اچھے تعلقات رکھ سکتے ہیں آخر انکے درمیان نفرت کی وجہ ہے کیا – مجھے لگتا ہے کہ ہندوستان کا ہمیشہ مسلہ دو قومی نظریہ کا دل سے نا ماننا اور اسی لیے پاکستن کوتسیم نہ کرنا ہے دوسری طرف یہ دونوں ملکوں کا خوف ہےایک دوسرے سے – اور خوف کے آگے جیت ہے امریکہ اور بیرونی طاقتیں بھی یہاں امن نہیں چاہتی اور ڈرانے میں انکا بھی حصہ ہو سکتا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس ڈر کو ختم کیا جائے کشمیر کا مسلہ حل کیا جاے اور سب سکون سے رہیں اس سلسے مٰیں امریکہ کی ہی پیروی کی جاے جو اپنی سرحدوں پر آسان تعلقات بناے ہوے ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here